میرا ساون بھی تُم ہو، میری پیاس بھی تُم ہوصحرا کی بانہوں میں چُھپی آس بھی تُم ہوتُم یوں تو بہت دُور، بہت دُور ہو مجھ سےاحساس یہ ہوتا ہے میرے پاس بھی تُم ہوہر زخم کی آغوش میں ہے درد تمھاراہر درد میں تسکین کا احساس بھی تُم ہوکھو جاؤ تو ویران سی ہو جاتی ہیں راہیںمِل جاؤ تو پھر جینے کا احساس بھی تُم ہولکھتا ہوں تو تُم ہی اُترتے ہو قلم سےپڑھتا ہوں تو لہجہ بھی تُم، آواز بھی تُم ہو